مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی آرمی کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور دشمن کو ایران کی جانب سے مزید کاری وار کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے تہران کی امام علی علیہ السلام افسران اکیڈمی میں منعقدہ پہلے قومی جشنِ سرباز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ ختم نہیں ہوئی، لہٰذا ایران نے جو فتح حاصل کی ہے، اسے بہترین انداز میں محفوظ بنانا ضروری ہے۔
میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ جارح دشمن کو بھاری ضربیں لگ چکی ہیں، تاہم اسے ملک کی طاقتور مسلح افواج کے جوانوں کی جانب سے مزید شدید حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے مسلح افواج کے سابق چیف آف اسٹاف شہید سید عبدالرحیم موسوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ باوقار جشن ان کی عظیم خدمات اور یاد کو زندہ رکھنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا ہے۔ شہید جنرل موسوی نے بیرونی خطرات کے مقابلے میں ملک کے دفاع کے لیے اپنی حکمت عملی کے ذریعے اہم اقدامات کیے۔
ایرانی فوج کے سربراہ نے ایک بار پھر کہا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں دشمن کے خلاف ایرانی افواج کی مزید شدید ضربات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خطہ غیر محفوظ ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب پر پڑیں گے۔ ہم یہاں رہتے ہوئے یہ قبول نہیں کرسکتے کہ دوسرے خطوں سے لوگ آئیں اور اس خطے کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے بطور ایرانی فوجی پڑوسی اور خطے کے تمام ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعاون خطے کے لیے سلامتی نہیں لاتا۔ ان کے مطابق علاقائی سلامتی خود خطے کے ممالک کے ذریعے یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیلی حکومت کو خطے سے نکالے بغیر علاقائی سلامتی حاصل نہیں کی جاسکتی اور وہ دن زیادہ دور نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ